نجم الدین مروجی طبسی
نجم الدین مروجی طبسی (پیدائش 1334 ش) ایک فقیہ، محقق اور حوزہ علمیہ قم کے جامعہ مدرسین کے رکن ہیں اور مؤسسہ ولاء صدیقہ کبریٰ علیہا السلام کے منتظم ہیں۔[1]
| ذاتی معلومات | |
|---|---|
| تاریخ پیدائش | 1334 ش |
| علمی معلومات | |
| اساتذہ | آیت اللہ محمد رضا طبسی نجفی، آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ میرزا جواد تبریزی، آیت اللہ فاضل لنکرانی |
| ثقافتی معلومات | |
| شعبہ فعالیت | مؤسسہ ولاء صدیقہ کبریٰ علیہا السلام کی انتظامیہ |
| ویب سائٹ | https://velaseddighah.com/ |
سوانح حیات
نجم الدین مروجی طبسی، محمد رضا طبسی نجفی کے فرزند، 1334 ش میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم نجف کے ایرانی مدارس میں نویں جماعت تک حاصل کی اور پھر طلب علمی کے شدید شوق کی وجہ سے 1350 ش میں حوزہ علمیہ نجف میں داخل ہوئے۔ سطح کے دورے کی تکمیل کے بعد، انہوں نے اٹھارہ سال تک فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی اور ممتاز اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔
وہ سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں عراق سے نکالے جانے والے دیگر ایرانیوں کے ساتھ نجف اشرف چھوڑ کر شہر مقدس قم ہجرت کر گئے تاکہ اپنی تعلیم اور علمی سرگرمیاں ایران کے اہم ترین حوزہ علمیہ مراکز میں سے ایک میں جاری رکھ سکیں۔
اساتذہ
انہوں نے نجف اشرف میں اپنے والد بزرگوار آیت اللہ شیخ محمد رضا طبسی، مدرس افغانی اور دیگر اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ شہر مقدس قم میں داخل ہونے کے بعد، انہوں نے آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ جوادی آملی، شیخ حسین نوری ہمدانی، فاضل لنکرانی، میرزا جواد تبریزی اور سید محمد رضا گلپایگانی جیسے ممتاز علماء کے دروس میں شرکت کی اور بہت زیادہ علمی استفادہ کیا۔
تصانیف
اس محترم عالم کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن میں سے بعض کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ان کی تصانیف میں تحقیقی، تاریخی، حدیثی اور مہدوی کتب شامل ہیں اور یہ فقہ، تاریخ اسلام اور معارف مہدویت جیسے مختلف تخصصی شعبوں میں لکھی گئی ہیں۔[2]
| کتاب کا عنوان | صفحات / جلد | ناشر / تفصیل |
|---|---|---|
| رایات سود (سیاہ پرچم) | 160 ص | مرکز تخصصی مہدویت حوزہ علمیہ قم |
| ناگفتہ ہائے سقیفہ | 480 ص | دلیل ما |
| پاسخ بہ چند شبہہ فاطمی | 56 ص | دلیل ما |
| نکتہ ہائے ناب (تاریخی، رجالی، حدیثی، اخلاقی) | 1 ج، 256 ص | دلیل ما |
| المہدی الموعود | 240 ص | مرکز الدراسات التخصصیۃ فی المہدویت |
| چشم اندازے بہ حکومت حضرت مہدی | 224 ص | بوستان کتاب |
| تا ظہور | 2 ج | بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود |
| بررسی روایات صیحہ آسمانی | 256 ص | مرکز تخصصی مہدویت حوزہ علمیہ قم |
| بررسی روایات آذربایجان قبل از ظہور امام زمان | 215 ص | مرکز تخصصی مہدویت حوزہ علمیہ قم |
| تحلیل و واکاوی جنگ صفین | 576 ص | یہ کتاب عربی زبان میں "حَرْبُ صِفِیْن، نظرة تحلیلة جدیدة" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے |
| الرجعة عند الشیعہ | – | یہ کتاب فارسی میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے |
| گفتگوی صمیمی با مہمانے از آلبانی | ۹6 ص | دلیل ما۔ یہ کتاب عربی زبان میں "حِوار ودّی مع الضّیف الألبانی" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے |
| از مناظرہ تا دستگیر | 111 ص | دلیل ما |
| سلفیان: باورہا و کارکردہا | 208 ص | دلیل ما |
| وہابیت در ترازوی نقد (ترجمہ الوہابیہ دعاوی و ردود) | 304 ص | مشعر تہران |
| بررسی و نقد روایات یمانی در منابع روایی شیعہ و اہل سنت | 167 ص | مرکز تخصصی مہدویت |
| سرنوشت یہود در عصر ظہور امام زمان | 215 ص | مرکز تخصصی مہدویت |
| نقش علماء در عصر ظہور امام زمان | 320 ص | مرکز تخصصی مہدویت |
| اصحاب امام زمان | 2 ج | مرکز تخصصی مہدویت |
| ادلہ ولادت امام مہدی | 2 ج | مرکز تخصصی مہدویت |
| آموزہ ہائے مہدوی در آئینہ کلام رضوی | 72 ص | دلیل ما |
| جنگ جمل (ریشہ ہا، پیامدہا، شبہات) | 2 ج | دلیل ما |
| شورای شش نفرہ (ریشہ ہا، انگیزہ ہا، پیامدہا) | 4۹6 ص | دلیل ما۔ یہ کتاب اردو زبان میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے |
| نقد ادلہ خلافت | 776 ص | دلیل ما |
| نماز تراویح سنت است یا بدعت | ۹6 ص | دلیل ما |
| نماز با دست باز یا بستہ | 56 ص | دلیل ما |
تدریس
وہ حوزہ کے اعلیٰ سطوح اور فقہ و اصول کے درس خارج کے علاوہ کلام اور مہدویت کے درس خارج بھی دیتے ہیں، نیز مختلف اداروں اور علمی مراکز میں امامت اور غدیر کے موضوعات پر تدریس کر چکے ہیں، جن میں مؤسسہ غدیرستان[3] بھی شامل ہے، یہاں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:
- «دورہ تربیت مبلغ غدیر»، 13۹5 ش، قائمیہ اصفہان۔
- «دوره تربیت مبلغ غدیر»، 13۹6 ش، قائمیہ اصفہان۔
- «دوره تربیت مبلغ غدیر»، 13۹7 ش، مدرسہ علمیہ خالصیہ۔
- «دوره مہندسی تبلیغ غدیر»، 13۹8 ش، مدرسہ علمیہ جوادیہ۔
- «دوره در انتظار غدیر»، 1400 ش، مدرسہ علمیہ جوادیہ۔
