نجم الدین مروجی طبسی
سانچہ:جعبه اطلاعات شخصنجمالدین مروجی طبسی متولد (۱۳۳۴ ش) فقیہ، محقق اور جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن ہیں اور مؤسسہ ولاء صدیقہ کبریٰ علیہا السلام کی نظامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
سوانح حیات
نجمالدین مروجی طبسی، محمدرضا طبسی نجفی کے فرزند، ۱۳۳۴ ش میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم نجف کے ایرانی اسکولوں میں نویں جماعت تک جاری رکھی اور پھر دینی تعلیم کے شدید شوق کی بنا پر ۱۳۵۰ ش میں حوزہ علمیہ نجف میں داخل ہوئے۔ دورہ سطح مکمل کرنے کے بعد، اٹھارہ سال تک فقہ و اصول کے درسِ خارج میں شرکت کی اور ممتاز اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔
آپ دیگر ان ایرانیوں کے ہمراہ جو سیاسی تبدیلیوں کے بعد عراق سے نکال دیے گئے تھے، نجف اشرف سے ہجرت کر کے شہر مقدس قم تشریف لائے تاکہ اپنی تعلیم اور علمی سرگرمیوں کو ایران کے اہم ترین حوزہ علمیہ مراکز میں سے ایک میں جاری رکھ سکیں۔
اساتذہ
آپ نے نجف اشرف میں اپنے والد بزرگوار آیتاللہ شیخ محمدرضا طبسی، مدرس افغانی اور دیگر اساتذہ سے استفادہ کیا۔ شہر مقدس قم میں داخل ہونے کے بعد، آیتاللہ وحید خراسانی، آیتاللہ جوادی آملی، شیخ حسین نوری ہمدانی، فاضل لنکرانی، میرزا جواد تبریزی اور سید محمدرضا گلپایگانی جیسے ممتاز علماء کے دروس میں شرکت کی اور علمی فیض حاصل کیا۔
آثار
اس محترم عالم دین کی متعدد تالیفات شائع ہو چکی ہیں جن میں سے کچھ کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ آپ کے آثار میں تحقیقی، تاریخی، حدیثی اور مہدویت سے متعلق کتب شامل ہیں اور یہ فقہ، تاریخ اسلام اور معارف مہدویت جیسے مختلف تخصصی شعبوں میں لکھی گئی ہیں۔
| کتاب کا عنوان | صفحات / جلد | ناشر / وضاحت |
|---|---|---|
| رایات سود (سیاہ جھنڈے) | ۱۶۰ ص | مرکز تخصصی مهدویت حوزه علمیه قم |
| ناگفتههایی از سقیفه (سقیفہ کی ان کہی باتیں) | ۴۸۰ ص | دلیل ما |
| پاسخ به چند شبهه فاطمی (فاطمی شبہات کے جوابات) | ۵۶ ص | دلیل ما |
| نکتههای ناب (تاریخی، رجالی، حدیثی، اخلاقی) | ۱ ج، ۲۵۶ ص | دلیل ما |
| المهدی الموعود | ۲۴۰ ص | مرکز الدراسات التخصصیة فی المهدویة |
| چشماندازی به حکومت حضرت مهدی (حضرت مہدی کی حکومت پر ایک نظر) | ۲۲۴ ص | بوستان کتاب |
| تا ظهور | ۲ ج | بنیاد فرهنگی حضرت مهدی موعود |
| بررسی روایات صیحه آسمانی (آسمانی چیخ کی روایات کا جائزہ) | ۲۵۶ ص | مرکز تخصصی مهدویت حوزه علمیه قم |
| بررسی روایات آذربایجان قبل از ظهور امام زمان | ۲۱۵ ص | مرکز تخصصی مهدویت حوزه علمیه قم |
| تحلیل و واکاوی جنگ صفین | ۵۷۶ ص | یہ کتاب عربی زبان میں «حَرْبُ صِفِیْن، نظرة تحلیلة جدیدة» کے عنوان سے شائع ہوئی ہے |
| الرجعة عند الشیعة | – | یہ کتاب فارسی میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے |
| گفتگوی صمیمی با مهمانی از آلبانی | ۹۶ ص | دلیل ما۔ یہ کتاب عربی میں «حِوار ودّی مع الضّیف الألبانی» کے عنوان سے شائع ہوئی ہے |
| از مناظره تا دستگیر | ۱۱۱ ص | دلیل ما |
| سلفیان: باورها و کارکردها (سلفی: عقائد اور کارکردگی) | ۲۰۸ ص | دلیل ما |
| وهابیت در ترازوی نقد (ترجمه الوهابیه دعاوی و ردود) | ۳۰۴ ص | مشعر تهران |
| بررسی و نقد روایات یمانی در منابع روایی شیعه و اهل سنت | ۱۶۷ ص | مرکز تخصصی مهدویت |
| سرنوشت یهود در عصر ظهور امام زمان | ۲۱۵ ص | مرکز تخصصی مهدویت |
| نقش علما در عصر ظهور امام زمان | ۳۲۰ ص | مرکز تخصصی مهدویت |
| اصحاب امام زمان | ۲ ج | مرکز تخصصی مهدویت |
| ادله ولادت امام مهدی | ۲ ج | مرکز تخصصی مهدویت |
| آموزههای مهدوی در آیینه کلام رضوی | ۷۲ ص | دلیل ما |
| جنگ جمل (ریشهها، پیامدها، شبهات) | ۲ ج | دلیل ما |
| شورای شش نفره (ریشهها، انگیزهها، پیامدها) | ۴۹۶ ص | دلیل ما۔ یہ کتاب اردو زبان میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے |
| نقد ادله خلافت | ۷۷۶ ص | دلیل ما |
| نماز تراویح سنت است یا بدعت | ۹۶ ص | دلیل ما |
| نماز با دست باز یا بسته | ۵۶ ص | دلیل ما |
تدریس
بندانگشتی|دوره تربیت مبلغ غدیر آپ حوزہ کی اعلیٰ سطح اور فقہ و اصول کے درسِ خارج کے علاوہ کلام اور مہدویت کے درسِ خارج بھی دیتے ہیں، نیز مختلف علمی مراکز اور اداروں میں امامت اور غدیر کے موضوعات پر تدریس کرتے رہے ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: سانچہ:کادر
- «دورہ تربیت مبلغ غدیر»، ۱۳۹۵ ش، قائمیہ اصفہان۔
- «دورہ تربیت مبلغ غدیر»، ۱۳۹۶ ش، قائمیہ اصفہان۔
- «دورہ تربیت مبلغ غدیر»، ۱۳۹۷ ش، مدرسہ علمیہ خالصیہ۔
- «دورہ مہندسی تبلیغ غدیر»، ۱۳۹۸ ش، مدرسہ علمیہ جوادیہ۔
- «دورہ در انتظار غدیر»، ۱۴۰۰ ش، مدرسہ علمیہ جوادیہ۔