محمد باقر انصاری
| ذاتی معلومات | |
|---|---|
| مکمل نام | محمد باقر انصاری خوئینی زنجانی |
| مشہور رشتہ دار | اسماعیل انصاری خوئینی زنجانی |
| علمی معلومات | |
| مذہب | شیعہ |
| ثقافتی معلومات | |
| وجہ شہرت | امامت پژوہی اور غدیر شناسی کے محقق |
محمد باقر انصاری (پیدائش ۱۳۳۹ش) امامت پژوہی اور غدیر شناسی کے محقق ہیں جو تحقیق اور تدریس کے دو شعبوں میں امامت اور غدیر کے معارف کی تبیین میں مصروف ہیں۔
تحقیق اور تالیف کے میدان میں ان کے متعدد آثار ترجمہ، تحقیق اور تالیف کے شعبوں میں شائع ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا موضوع غدیر ہے۔ اس میدان میں ان کا سب سے مشہور کام کتاب سلیم بن قیس ہلالی کی تحقیق اور اشاعت ہے جو تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔
انصاری تالیف و تحقیق کے علاوہ، برسوں سے مختلف علمی اور تبلیغی مراکز میں تاریخ اسلام اور غدیر شناسی کے موضوعات پر تدریس کر رہے ہیں؛ ان کی اس میدان میں سرگرمیوں میں سے ایک غدیرستان انسٹی ٹیوٹ میں تدریس ہے۔
غدیر شناسی میں مقام
محمد باقر انصاری کو امامت پژوہی اور غدیر شناسی کے میدان میں ایک محقق کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جنہوں نے تحقیق اور تدریس کے دو شعبوں میں امامت اور غدیر کے معارف کی تبیین کی ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق، تحقیق اور تالیف کے میدان میں انصاری نے ۱۳۶۴ش سے کام کا آغاز کیا اور ان کے متعدد آثار ترجمہ، تحقیق اور تالیف کے شعبوں میں شائع ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا موضوع غدیر ہے۔ اس میدان میں ان کا سب سے مشہور کام کتاب سلیم بن قیس ہلالی کی تحقیق اور اشاعت ہے جو تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔[یادداشت 1]
کہا گیا ہے کہ انصاری تالیف و تحقیق کے علاوہ، برسوں سے مختلف علمی اور تبلیغی مراکز میں تاریخ اسلام اور غدیر شناسی کے موضوعات پر تدریس کر رہے ہیں۔
سوانح حیات
محمد باقر انصاری خوئینی زنجانی ۲۲ بہمن ۱۳۳۹ش، مطابق ۲۵ شعبان ۱۳۸۰ق کو شہر قم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اسماعیل انصاری حوزہ علمیہ کے محققین اور مصنفین میں سے تھے، جن کے آثار میں ۲۵ جلدوں پر مشتمل الموسوعة الکبری عن فاطمة الزهراء علیہا السلام اور کتاب سلیم بن قیس ہلالی کا پہلا ترجمہ و تحقیق اسرار آل محمد علیہم السلام کے نام سے شامل ہے۔
انصاری اپنی عمر کے دوسرے سال میں والدین کے ہمراہ تہران منتقل ہوئے اور چودہ سال کی عمر تک تہران میں رہے۔ انہوں نے پرائمری اور ہائی اسکول کی تعلیم تہران میں مکمل کی۔ انصاری ۱۳۵۳ش میں والدین کے ہمراہ قم واپس آئے اور حوزہ علمیہ قم میں دینی علوم کی تعلیم میں مشغول ہو گئے۔
تعلیم اور اساتذہ
محمد باقر انصاری نے سات سال تک اپنے والد اور چچا کے حضور سطحی دروس مکمل کیے۔ ۱۳۶۱ش سے، مرتضی حائری یزدی (وفات: ۱۳۶۴ش) اور حسین وحید خراسانی کے فقہ و اصول کے دروس میں شرکت کی اور ان کے فقہ و اصول کے دروس کی تقریرات کو عربی میں مرتب کیا۔
انصاری نے فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ علم رجال اور کتاب شناسی میں بھی تخصصی کام کیا۔
تدریس
امامت پژوہی اور غدیر شناسی کے میدان میں محمد باقر انصاری کی ثقافتی اور علمی سرگرمیوں میں سے ایک علمی اور ثقافتی مراکز میں تدریس ہے۔ اس سلسلے میں غدیرستان علمی و فنی انسٹی ٹیوٹ میں ان کی تدریس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سرگرمیاں ۱۳۸۸ش سے شروع ہوئیں اور ہر سال عام اور خاص مخاطبین کے لیے غدیر کے موضوع پر تخصصی کورسز منعقد کیے جاتے ہیں؛ ان علمی سرگرمیوں میں سے چند درج ذیل ہیں:
| کورس کا نام | درس/سیشن | سال | مقام انعقاد | لنک |
|---|---|---|---|---|
| غدیر پژوہی کورس | ۱۰ | ۱۳۹۱ | غدیرستان انسٹی ٹیوٹ | لنک |
| غدیر شناسی کورس | ۳۰ | ۱۳۹۲ | قائمیہ اصفہان | لنک |
| غدیر شناسی کورس | ۱۱ | ۱۳۹۳ | مدرسہ علمیہ جوادیہ اصفہان | لنک |
| غدیر مبلغ کورس | ۳۹ | ۱۳۹۵ | قائمیہ اصفہان | لنک |
| غدیر مبلغ کورس | ۱۲ | ۱۳۹۶ | قائمیہ اصفہان | لنک |
| غدیر مبلغ کورس | ۱۴ | ۱۳۹۷ | مدرسہ علمیہ خالصیہ اصفہان | لنک |
| غدیر تبلیغ انجینئرنگ کورس | ۲۴ | ۱۳۹۸ | مدرسہ علمیہ جوادیہ اصفہان | لنک |
| عصر غیبت میں غدیر کے جلوے کورس | ۲۰ | ۱۳۹۹ | مدرسہ علمیہ جوادیہ اصفہان | لنک |
| غدیر کے انتظار میں کورس | ۱۱ | ۱۴۰۰ | مدرسہ علمیہ جوادیہ اصفہان | لنک |
| مقالہ نویسی کورس | ۱۷ | ۱۳۹۵ | غدیرستان انسٹی ٹیوٹ | لنک |
| خاندان اور غدیر کا مکالمہ کورس | ۱۴ | ۱۴۰۱ | مدرسہ علمیہ جوادیہ اصفہان | لنک |
| غدیر اور زیارت کورس | ۳ | ۱۴۰۲ | قائمیہ اصفہان | لنک |
| خطبہ غدیر کی شرح | ۵۷ | نامعلوم | غدیرستان انسٹی ٹیوٹ | لنک |
آثار
بعض ذرائع کے مطابق، محمد باقر انصاری نے غدیر شناسی سمیت مختلف موضوعات پر کثیر تعداد میں کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے بہت سی کتابیں اہل علم کی توجہ کا مرکز رہی ہیں اور بارہا شائع ہو چکی ہیں۔ اب تک ان کی ۸۷ تصانیف منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ ان میں سے چند اہم آثار درج ذیل ہیں:
| کتاب کا عنوان | موضوع | سالِ اشاعت | صفحات | ناشر |
|---|---|---|---|---|
| کتاب سلیم بن قیس الہلالی (تین جلدوں پر مشتمل تحقیق) | ولایت اور غدیر کے بارے میں اولین تاریخی ماخذ | ۱۴۱۵ھ | — | — |
| معاً فی الغدیر | شیعہ اور سنی منابع میں حدیثِ غدیر کا تقابلی جائزہ | ۱۳۸۳ش | ۳۸۰ ص | انصاریان |
| واقعہ قرآنی غدیر | قرآنِ مجید کی روشنی میں واقعہ غدیر کی وضاحت | ۱۴۲۸ھ | ۲۲۰ ص | دلیل ما |
| سخنرانی استثنایی غدیر | خطبہ غدیر کا تجزیہ و تحلیل | ۱۴۲۷ھ | ۲۵۰ ص | دلیل ما |
| ژرفای غدیر | غدیر کی عرفانی اور کلامی تفسیر | ۱۴۲۳ھ | ۲۲۰ ص | دلیل ما |
| چودہ صد سال غدیر کے ساتھ | غدیر کے تاریخی اور ثقافتی اثرات | ۱۴۲۰ھ | ۲۴۰ ص | دلیل ما |
| کرانههای غدیر | غدیر کے اخلاقی اور سماجی مباحث | ۱۳۹۲ش | ۲۰۰ ص | دلیل ما |
| اولین میراث مکتوب از واقعہ غدیر | حدیثِ غدیر کے قدیم ترین منابع کا تعارف | ۱۳۷۸ش | ۶۸ ص | دلیل ما |
| اگر در غدیر بودیم...؟ | تمثیل اور مکالمے کے انداز میں واقعہ غدیر کی بازخوانی | ۱۴۲۵ھ | ۱۶۰ ص | دلیل ما |
| خطابہ غدیر در آئینہ اسناد | خطبہ غدیر کی روایات کی دستاویزی حیثیت | ۱۳۸۵ش | ۱۰۶ ص | دلیل ما |
| خطبة الغدیر | خطبہ غدیر کا مکمل عربی متن | ۱۴۲۶ھ | ۷۰ ص | — |
| خطابہ غدیر: غدیر خم میں تین روزہ تقریب کی رپورٹ | تاریخی رپورٹ اور خطبہ غدیر کا ترجمہ | — | ۸۰ ص | دلیل ما |
| غدیر از زبانِ مولیٰ علیہ السلام | امام علی (ع) کی زبانی حدیثِ غدیر کا بیان | ۱۴۲۹ھ | ۴۵ ص | دلیل ما |
| غدیر در قرآن، قرآن در غدیر (۳ جلد) | قرآن اور حدیثِ غدیر کا باہمی تعلق | ۱۳۸۷ش | — | دلیل ما |
| غدیرِ من | غدیر کی ذاتی اور معرفتی وضاحت | ۱۳۸۷ش | ۶۰ ص | دلیل ما |
| غدیر کجاست؟ | غدیر خم کا جغرافیائی اور تاریخی تعارف | ۱۴۲۵ھ | ۸۰ ص | دلیل ما |
| قصہ قرآنی غدیر | قرآن کی بنیاد پر غدیر کی داستانی روایت | ۱۳۹۲ش | ۱۲۰ ص | دلیل ما |
| گزارشِ حجۃ الوداع | پیغمبر اسلام (ص) کے آخری سفر اور غدیر کے پس منظر کی تفصیلی رپورٹ | ۱۴۲۷ھ | ۳۸۰ ص | دلیل ما |
| قرآن نامہ غدیر | ولایت اور غدیر سے متعلق آیات کی فہرست | ۱۳۸۷ش | ۱۴۰ ص | دلیل ما |
| گزارش لحظہ بہ لحظہ از حج پیامبر صلیاللہعلیہ وآلہ | پیغمبر اسلام کے آخری حج کے واقعات کی بازسازی | ۱۴۳۰ھ | ۹۰ ص | دلیل ما |
| گزارش لحظہ بہ لحظہ از واقعہ غدیر | خطبے کے وقت اور مقام کی دقیق بازسازی | ۱۴۲۱ھ | ۴۸ ص | دلیل ما |
| خطبہ غدیر چیست؟ | خطبہ غدیر کے کلامی اور سماجی مواد کا تعارف | ۱۴۰۳ش | ۸۸ ص | شرارہ صبح |
| غدیر کلاسِ فوری | نوجوانوں کے لیے غدیر کے مباحث کی مختصر تعلیم | ۱۴۳۴ھ | ۸۰ ص | عطر عترت |
| غدیر با قرآن نسخہ فوری | آیاتِ غدیر کے بارے میں مختصر درس نامہ | ۱۴۳۸ھ | ۱۱۰ ص | عطر عترت |
| خطبہ غدیر نگاہِ فوری | خطبہ غدیر کا علمی خلاصہ اور ترجمہ | ۱۴۳۷ھ | ۲۲۰ ص | دلیل ما |
| غدیر و دشمنان مرورِ فوری | غدیر میں ولایت کے مخالفین کا تاریخی جائزہ | ۱۴۳۸ھ | ۱۰۰ ص | دلیل ما |
| غدیر تا فاطمیہ | ولایت اور حضرت فاطمہ (س) کی مظلومیت کے درمیان تعلق | ۱۳۹۵ش | ۲۳۵ ص | عطر عترت |
| اسرارِ غدیر | غدیر کی رمزی اور عرفانی تشریح (اردو ترجمہ موجود ہے) | ۱۴۱۴ھ | ۳۸۰ ص | مولود کعبہ |
| خطبہ نبوت در غدیر ولایت | خطبہ غدیر کا الہیاتی تجزیہ | ۱۴۳۳ھ | ۶۰ ص | آثار فاخر |
| تبلیغ غدیر در سیرۃ معصومین علیہمالسلام | پیغامِ غدیر کی اشاعت میں ائمہ (ع) کے کردار کا جائزہ | ۱۴۳۳ھ | ۲۷۰ ص | دلیل ما |
| بیعۃ الغدیر | غدیر خم میں بیعت کے واقعے کا تجزیہ | ۱۴۲۲ھ | ۴۶ ص | دلیل ما |
| ندائے آسمانی غدیر | حدیثِ غدیر کی اسنادی حیثیت کا تعارف | ۱۴۲۴ھ | ۷۰ ص | تک |
| غدیر در احساسِ ملتها | اسلامی معاشروں میں غدیر کے ثقافتی اثرات | ۱۴۲۴ھ | ۴۵۰ ص | دلیل ما |
| حضور در غدیر | غدیر کے مقام اور معاصر تقریبات کی دستاویزی رپورٹ | ۱۴۳۳ھ | ۱۱۰ ص | عطر عترت |
| گفتارهای ایامِ ولایت | ولایت کے بارے میں تقاریر اور مضامین کا مجموعہ | ۱۴۳۳ھ | ۱۰۰ ص | عطر عترت |
| صدای غدیر میآید | خطبہ غدیر کے اخلاقی اور ثقافتی پیغامات | ۱۴۳۸ھ | ۸۰ ص | دلیل ما |
| بر کرانہ غدیر | واقعہ اور پیغامِ غدیر کا اجمالی تعارف | ۱۳۹۰ش | ۴۷ ص | دلیل ما |
پانویس
- ↑ کتاب سلیم بن قیس کا تصحیح شدہ نسخہ ۱۴۱۵ق میں محمد باقر انصاری زنجانی کی طرف سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔ یہ تصحیح کتاب کے چودہ خطی نسخوں پر تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اس مجموعے کی پہلی جلد کتاب کے اعتبار کے بارے میں ایک مفصل مقدمہ ہے اور دوسری اور تیسری جلد کتاب کے متن اور فہرست نگاری پر مشتمل ہے۔ («مؤلف کتاب اسرار آل محمد(ص) بر ترازوی نقد»، ص۱۵۰)۔
منابع
- غدیر در آئینہ کتاب؛ محمد انصاری زنجانی، قم: انتشارات دلیل ما، ۱۳۹۰ش۔
- «مؤلف کتاب اسرار آل محمد(ص) بر ترازوی نقد»؛ اسلام ملکی معاف، مطالعات قرآن و حدیث، شمارہ ۲، بہار و تابستان ۱۳۸۷ش۔
