مندرجات کا رخ کریں

شیخ مفید

ویکی غدیر سے
شیخ مفید
شیخ مفید
حرم کاظمین علیہما السلام میں شیخ مفید کا مقبرہ
ذاتی معلومات
مکمل ناممحمد بن محمد بن نُعمان عُکبری بغدادی
علمی معلومات
شاگردشیخ طوسی • سید مرتضی • سید رضی • احمد بن علی نجاشی
مذہبشیعہ

شیخ مفید (۳۳۶ یا ۳۳۸–۴۱۳ھ) چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ترین شیعہ فقہا اور متکلمین میں شمار ہوتے ہیں۔

مختلف مآخذ میں شیخ مفید کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا متکلم قرار دیا گیا ہے۔ آپ کی علوم میں پیش قدمی، کثیر الجہت شخصیت، علم کلام میں مہارت، مخالفین کے ساتھ مناظرے میں قدرت اور عملی زندگی میں زہد و تقویٰ کے لیے آپ کی ستائش کی گئی ہے۔

شیخ مفید کو غدیر کے بعد کے چودہ سو سالوں کے ان مشہور مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے غدیر کے موضوع پر دو یا اس سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں۔ غدیر کے بارے میں دو رسالے جن کے نام رسالۃ فی معنی المولیٰ اور اقسام المولیٰ فی اللسان ہیں، شیخ مفید کے متعدد آثار (۲۰۰ سے زائد چھوٹے بڑے رسالے) کی فہرست میں شامل ہیں۔ شیخ مفید کی غدیر کے حوالے سے ایک اور اہم سرگرمی غدیر کے مخالفین کے ساتھ مناظرہ اور انہیں شکست دینا بتائی گئی ہے۔

مقام و مرتبہ

شیخ مفید چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ترین شیعہ فقہا اور متکلمین میں شمار ہوتے ہیں۔[1] چوتھی صدی ہجری کے مشہور کتاب شناس اور فہرست نگار ابن ندیم، جو شیخ مفید کے ہم عصر تھے، آپ کے بارے میں لکھتے ہیں: اس وقت شیعہ متکلمین کی قیادت آپ کے پاس ہے اور علم کلام میں آپ سب پر مقدم ہیں۔ آپ گہری نظر اور درست افکار کے مالک ہیں۔ میں نے آپ سے ملاقات کی اور آپ کو بہت بڑا عالم پایا۔[2]

شیخ طوسی، جو شیخ مفید کے شاگرد اور چوتھی و پانچویں صدی ہجری کے بڑے شیعہ فقہا میں سے ہیں، اپنے استاد کے بارے میں لکھتے ہیں: آپ امامیہ متکلمین میں سے ہیں جن کی قیادت ان کے دور میں انہی کے ہاتھ میں تھی۔ آپ اپنے زمانے میں علم دین بشمول کلام اور فقہ میں پیش پیش تھے۔ آپ خوش حافظہ، تیز فہم اور حاضر جواب عالم تھے۔[3]

اہل سنت کے بعض مآخذ میں بھی شیخ مفید کی علوم میں پیش قدمی، کثیر الجہت شخصیت، علم کلام میں مہارت، مخالفین کے ساتھ مناظرے میں قدرت اور عملی زندگی میں زہد و تقویٰ کے لیے ستائش کی گئی ہے۔[4]

سوانح حیات

ابو عبداللہ محمد بن محمد بن نعمان عُکبری بغدادی، جو ابن معلم اور شیخ مفید کے نام سے مشہور ہیں، ۱۱ ذی‌القعدہ ۳۳۶ھ یا ۳۳۸ھ کو بغداد کے قریب عُکبری میں پیدا ہوئے۔[5]

کہا جاتا ہے کہ آپ کے والد معلم تھے اسی لیے آپ ابن معلم کے نام سے مشہور ہوئے اور 'مفید' کا لقب آپ کو اہل سنت کے ایک عالم نے دیا تھا۔[6]

ابوالقاسم گرجی (وفات: ۱۳۸۹ش) کے مطابق، جو فقیہ اور تہران یونیورسٹی کے استاد تھے، شیخ مفید نے بچپن سے ہی حصولِ علم شروع کیا اور قرآن و علومِ مقدماتی اپنے والد سے سیکھے۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے بغداد گئے اور شیعہ و سنی بڑے علما کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور علم کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے؛ یہاں تک کہ کم عمری میں ہی آلِ بویہ کے سلطان، عضدالدولہ دیلمی، آپ کے علمی مقام کی تکریم کے لیے آپ کے گھر ملاقات کرنے جایا کرتے تھے۔[7]

شیخ مفید بغداد کے محلہ کرخ میں رہتے تھے اور مسجد براثا آپ کے درس کی جگہ تھی۔[8] کہا جاتا ہے کہ شیخ مفید مختلف عقائد رکھنے والوں کے ساتھ مناظرہ کیا کرتے تھے۔[9] آپ کثرت سے صدقہ دیتے تھے اور بہت زیادہ خشوع، نماز اور روزے کے پابند تھے۔[10] شیخ مفید ۴۱۳ھ میں بغداد میں وفات پا گئے اور آپ کی میت کو شیعہ و سنی عوام کے بڑے ہجوم کے ساتھ آپ کے گھر میں دفن کیا گیا، اور دو سال بعد آپ کو مقابر قریش (حرم کاظمین علیہما السلام) میں آپ کے استاد ابن قولویہ کے پہلو میں منتقل کر کے دفن کیا گیا۔[11]

اساتذہ

سید محسن امین عاملی (وفات: ۱۳۷۱ھ)، تراجم نگار اور کتاب اعیان الشیعہ کے مؤلف، نے شیخ مفید کے ۵۶ شیعہ اور سنی اساتذہ کا تعارف کرایا ہے؛[12] جن میں سے مشہور ترین یہ ہیں:

  • شیخ صدوق (وفات: ۳۸۱ھ)
  • ابن جنید اسکافی (وفات: ۳۸۱ھ)
  • ابن قولویہ (وفات: ۳۶۹ھ)
  • ابو غالب زراری (وفات: ۳۶۸ھ)
  • محمد بن عمران مرزبانی (وفات: ۳۸۴ھ)
  • ابوبکر محمد بن عمر جعابی (وفات: ۳۵۵ھ)
  • ابوعبداللہ حسین بن علی جعل بصری (وفات: ۳۶۹ھ)
  • علی بن عیسی رمانی (وفات: ۳۸۴ھ)[13]


شاگرد

گرجی کے مطابق، شیخ مفید شیعہ کے ان بڑے علما میں سے ہیں جن کے درس میں ممتاز شخصیات شریک ہوتی تھیں؛[14] جن میں سے چند یہ ہیں:

  • سید مرتضی (وفات: ۴۳۶ھ)
  • سید رضی (وفات: ۴۰۶ھ)
  • شیخ طوسی (وفات: ۴۶۰ھ)
  • ابوالعباس نجاشی (وفات: ۴۵۰ھ)
  • سلار دیلمی (وفات: ۴۶۳ھ)
  • ابوالفتح کراجکی (وفات: ۴۴۹ھ)
  • ابویعلی محمد بن حسن جعفری (وفات: ۴۶۳ھ)[15]


تالیفات

شیخ مفید کے آثار کا مجموعہ

شیخ طوسی کے مطابق، شیخ مفید کی ۲۰۰ سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں تھیں۔[16] کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بہت سی ضائع ہو چکی ہیں۔[17] ان میں سے چند یہ ہیں:

  • المقنعہ
  • الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد
  • الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرہ
  • الامالی
  • العیون و المحاسن
  • اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات
  • احکام النساء
  • مختصر التذکرۃ بأصول الفقہ
  • تصحیح الاعتقادات الامامیہ
  • مسار الشیعہ فی مختصر تواریخ الشریعہ
  • نقض فضیلۃ المعتزلہ
  • الافصاح فی الامامہ
  • کتاب المزار
  • المسائل السرویۃ
  • المسائل الصاغانیہ[18]


شیخ مفید اور غدیر

شیخ مفید کی غدیر کے حوالے سے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کچھ ایسی سرگرمیاں رہی ہیں جن کی طرف بعض منابع میں اشارہ کیا گیا ہے:

غدیر کے بارے میں تالیفات

رسالة فی معنی المولی (کتاب)

بعض محققین نے شیخ مفید کو غدیر کے بعد کے چودہ صدیوں کے ان مشہور مؤلفین میں شمار کیا ہے جنہوں نے غدیر کے موضوع پر دو یا اس سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں۔[19] کہا جاتا ہے کہ چوتھی صدی ہجری سے حدیثِ غدیر کی متن اور سند پر تحقیق کا آغاز ہوا اور خطبہ غدیر کا مرکزی حصہ (مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِىٌّ مَوْلَاهُ) مناظروں میں پیش کیا گیا اور اس پر رجالی و سندی تحقیق کی گئی۔[20] شیخ صدوق، شیخ مفید اور سید مرتضیٰ کی کتابوں کو اس دعوے کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔[21]

حدیث غدیر کے متن کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں سے اقسام المولی فی اللسان اور رسالة فی معنی المولی شامل ہیں، جنہیں شیخ مفید کی تصنیفات مانا جاتا ہے:

  • رسالة فی معنی المولی: یہ کتاب شیخ مفید اور معتزلی متکلم «بہشمیہ» کے درمیان مناظرہ ہے۔ اس شخص نے لفظ «مولیٰ» کے امامت پر دلالت کرنے اور یہ کہ یہ معنی اس لفظ کی حقیقت نہیں ہے، کے حوالے سے تین اشکالات اٹھا کر امامت کا انکار کیا تھا۔ شیخ مفید نے اس کے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے اور یہ ثابت کرتے ہوئے کہ مذکورہ معنی اس لفظ کی حقیقت ہے، امامت کو ثابت کیا ہے۔[22]
  • اقسام المولی فی اللسان: اس کتاب کے مقدمے میں شیعہ محقق سید محمدرضا جلالی (وفات: ۱۴۰۳ھ ش) نے «مولیٰ» کے بارے میں شیخ مفید کے نظریات کی وضاحت کی ہے۔ اصل کتاب سترہ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ «مولیٰ» سے مراد «اولیٰ بہ نفس» (لوگوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا) ہے۔ اس کتاب میں زیر بحث موضوعات یہ ہیں: لغت میں مولیٰ کے دس معانی؛ واقعہ غدیر کا تجزیہ اور دس معانی میں سے «اولیٰ بہ نفس» کے معنی کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے کلام پر انطباق؛ عرب فصحاء کے اشعار سے صحیح معنی «مولیٰ» کے شواہد اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی امامت کا استدلال۔[23]

غدیر کے اثبات کے لیے مناظرہ

اس سلسلے میں شیخ مفید کے ایک مناظرے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: کتاب حدیقة الشیعة کا مصنف بیان کرتا ہے: ایک دن شیخ مفید، علی بن موسیٰ رمانی کی مجلس میں داخل ہوئے۔ اتفاق سے ایک شخص نے رمانی سے پوچھا: حدیث غدیر اور قصہ غار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: خبرِ غار «درایت» (یقینی) ہے اور خبرِ غدیر «روایت» (ظنی) ہے۔ جب حاضرین مجلس سے باہر نکل گئے تو شیخ مفید نے رمانی سے پوچھا: اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو اپنے امامِ وقت کے خلاف خروج کرے اور اس سے جنگ کرے؟ رمانی نے کہا: وہ شخص کافر ہے۔ پھر اس نے کہا: نہیں، بلکہ فاسق ہے۔ شیخ مفید نے پوچھا: علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: وہ امامِ عادل ہیں۔ شیخ نے کہا: طلحہ اور زبیر اور جنگِ جمل کے فتنے کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ رمانی نے کہا: انہوں نے توبہ کر لی تھی۔ شیخ نے فرمایا: جنگ کی خبر «درایت» ہے اور توبہ کی حدیث «روایت» ہے۔ رمانی نے کہا: کیا تم اس وقت موجود تھے جب انہوں نے سوال کیا تھا؟ شیخ نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تمہارا قول وارد اور مسلم ہے، اور اس نے انہیں «مفید» کا لقب دیا۔[24]

قاضی نوراللہ شوشتری (وفات: ۱۰۱۹ھ)، جو شیعہ فقیہ اور متکلم تھے، نے اس واقعے کو ایک اور انداز میں نقل کیا ہے: ایک دن شیخ مفید قاضی عبدالجبار معتزلی کی مجلس میں حاضر ہوئے، جہاں چاروں مذاہب کے علماء موجود تھے۔ قاضی نے شیخ مفید کا نام تو سنا تھا لیکن انہیں دیکھا نہیں تھا۔ شیخ جو مجلس کے نچلے حصے میں بیٹھے تھے، کچھ دیر بعد کہا: اے قاضی صاحب، اگر اجازت ہو تو ایک سوال کروں؟ قاضی نے کہا: پوچھو۔ شیخ نے کہا: خبر مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِىٌّ مَوْلَاهُ کیا صحیح ہے یا شیعہ علماء کی گھڑی ہوئی ہے؟ قاضی نے کہا: یقیناً صحیح ہے۔ شیخ نے کہا: مولیٰ سے کیا مراد ہے؟ قاضی نے کہا: مولیٰ کا مطلب «اولیٰ» ہے (یعنی وہ شخص جسے لوگوں پر ولایت اور رہبری کا حق حاصل ہو)۔ شیخ نے کہا: تو پھر یہ سب اختلاف اور دشمنی کیوں ہے؟ قاضی نے کہا: اے بھائی، وہ خبر روایت ہے اور ابوبکر کی خلافت درایت ہے، اور عقل مند لوگ روایت کی خاطر درایت کو نہیں چھوڑتے۔ شیخ نے اس مسئلے کو چھوڑ کر پوچھا: اس خبر کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا ہے: «اے علی، تم سے جنگ مجھ سے جنگ ہے اور تم سے صلح مجھ سے صلح ہے»؟ قاضی نے کہا: یہ تو یقیناً حدیث ہے۔ شیخ نے کہا: تو پھر آپ کے قول کے مطابق، اصحابِ جمل کافر ہوئے؟

قاضی نے کہا: اے بھائی، کیا تم نے نہیں سنا کہ انہوں نے توبہ کر لی تھی؟ شیخ نے کہا: اے قاضی! جنگ کی خبر درایت ہے اور توبہ کی حدیث روایت ہے، اور آپ نے پچھلی حدیث میں فرمایا تھا کہ عقل مند لوگ روایت کی خاطر درایت کو نہیں چھوڑتے۔ قاضی کچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے، پھر سر اٹھا کر پوچھا: آپ کون ہیں اور کس کے پاس تعلیم حاصل کی ہے؟ شیخ نے کہا: میں محمد بن محمد بن نعمان حارثی ہوں۔ قاضی کھڑے ہوئے، شیخ کا ہاتھ تھاما اور اپنی جگہ بٹھایا، معذرت کی اور کہا: انت المفيد حقاً۔ مجلس کے علماء میں ہلچل مچ گئی اور سب قاضی سے ناراض ہو گئے۔ قاضی نے کہا: اے دین کے علماء، اس شخص نے مجھے لاجواب کر دیا ہے اور میں اس کے جواب میں عاجز آ گیا ہوں۔ اگر تم میں سے کسی کے پاس جواب ہے تو پیش کرو تاکہ یہ اٹھ کر اپنی جگہ چلا جائے۔[25]

پانویس

  1. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  2. الفہرست، ص۳۳۲۔
  3. الفہرست، ص۲۳۸۔
  4. سیر اعلام النبلاء، ج۱۳، ص۹۶۔
  5. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  6. گذری بر حیات شیخ مفید، ص۷–۹۔
  7. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  8. مفاخر اسلام، ج۳، ص۲۴۱۔
  9. شذرات الذہب، ج۵، ص۷۲۔
  10. شذرات الذہب، ج۵، ص۷۲۔
  11. الفہرست، ص۲۳۹؛ رجال النجاشی، ص۴۰۳–۴۰۴؛ اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۲۰۔
  12. اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۲۱۔
  13. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  14. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  15. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  16. الفہرست، ص۲۳۸۔
  17. تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۴۳۔
  18. اعیان الشیعہ، ج۹، ص۴۲۳–۴۲۴۔
  19. چهارده قرن با غدیر، ص۱۳۵–۱۵۲؛ اسرار غدیر، ص۹۸۔
  20. چهارده قرن با غدیر، ص۱۳۵–۱۵۲؛ اسرار غدیر، ص۹۸۔
  21. چهارده قرن با غدیر، ص۱۳۵–۱۵۲؛ اسرار غدیر، ص۹۸۔
  22. غدیر در آینه کتاب، ص۳۳۳۔
  23. غدیر در آینه کتاب، ص۱۰۵۔
  24. حدیقة الشیعه، ج۱، ص۴۸۹۔
  25. مجالس المؤمنین، ج۱، ص۴۶۴–۴۶۵۔

حوالہ جات

  • اسرار غدیر؛ محمدباقر انصاری، تہران: نشر تک، ۱۳۸۴ش۔
  • اعیان الشیعہ؛ سید محسن امین عاملی، بیروت: دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ھ۔
  • تاریخ فقہ و فقہا؛ ابوالقاسم گرجی، تہران، سمت، ۱۳۷۹ش۔
  • حدیقۃ الشیعہ؛ احمد بن محمد مقدس اردبیلی، تحقیق: صادق حسن‌زادہ اور علی اکبر زمانی‌نژاد، قم: انتشارات انصاریان، ۱۴۲۵ھ۔
  • سیر اعلام النبلاء؛ شمس‌الدین ذہبی، قاہرہ: منشورات دارالحدیث، ۱۴۲۷ھ۔
  • شذرات الذہب فی اخبار من ذہب؛ عبدالحی بن احمد (ابن عماد حنبلی)، تحقیق: محمود ارناؤوط اور عبدالقادر ارناؤوط، بیروت: دار ابن‌کثیر، ۱۴۰۶ھ۔
  • غدیر در آئینہ کتاب؛ محمد انصاری زنجانی، قم: انتشارات دلیل ما، ۱۳۹۰ش۔
  • الفہرست؛ محمد بن اسحاق (ابن ندیم)، ترجمہ: محمدرضا تجدد، تہران: چاپخانہ بینک بازرگانی ایران، ۱۳۴۶ش۔
  • الفہرست؛ محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی)؛ تحقیق جواد قیومی، قم: مؤسسہ نشر فقاہت، ۱۴۱۷ھ۔
  • گذری بر حیات شیخ مفید؛ سید محمدجواد شبیری زنجانی، مجموعہ مقالات فارسی کنگرہ عالمی ہزارہ شیخ مفید (جلد ۵۵: چار مقالہ)، کنگرہ عالمی ہزارہ شیخ مفید میں، ۱۳۷۲ش۔
  • مجالس المؤمنین؛ سید نوراللہ بن شریف‌الدین حسینی شوشتری، تحقیق: احمد عبدمنافی، تہران: انتشارات کتابفروشی اسلامیہ، ۱۳۷۷ش۔
  • مفاخر اسلام؛ علی دوانی، تہران: انتشارات امیرکبیر، ۱۳۶۳ش۔