مندرجات کا رخ کریں

سورہ مجادلہ کی آیت 22 اور غدیر

ویکی غدیر سے
سورہ مجادلہ کی آیت 22 اور غدیر
سورہ مجادلہ کی آیت 22 اور غدیر
آیت کی خصوصیات
آیت کا مواد
آیت کی ترتیل

سورہ مجادلہ کی آیت 22 خطبہ غدیر میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ خدا کی دوستی اس کے دشمنوں سے دوستی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔

سورہ مجادلہ کی آیت 22 کو خطبہ غدیر میں بطور استناد پیش کیا گیا ہے۔ بعض محققین نے اس آیت کے استعمال کا پس منظر یوں بیان کیا ہے: خطبہ غدیر کے ساتویں حصے میں، جب صراط مستقیم واضح ہو گیا، تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تقریر اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں اور دشمنوں کے تعارف کے بارے میں جاری رہی۔ آپ نے اس بارے میں گیارہ جملے فرمائے جن میں سے چھ ان کے دوستوں کی تعریف میں اور پانچ ان کے دشمنوں کی مذمت میں تھے۔ حضرت نے خطبہ غدیر کے اس حصے میں براہ راست سورہ مجادلہ کی آیت 22 کی تلاوت کی، جس کا مفہوم یہ تھا کہ خدا کی دوستی اس کے دشمنوں سے دوستی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔

حضرت نے اس آیت کے ذریعے ولایت قبول کرنے کے لیے دشمنوں سے برائت کی شرط رکھی اور اس کے بدلے میں اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں کو ایک بڑا انعام اور نشان عطا فرمایا: اَلا اِنَّ اَوْلِياءَهُمُ الَّذينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ فى كِتابِهِ، فَقالَ عَزَّ وَ جَلَّ: لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْیَومِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لَوْ کانُوا آبائَهُمْ اَوْ اَبْنائَهُمْ اَوْ اِخْوانَهُمْ اَوْ عَشیرَتَهُمْ، اوُلئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِهِمُ الایمانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهارُ خالِدینَ فیها رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ اوُلئِکَ حِزْبُ اللَّهِ اَلا اِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؛ خبردار! بے شک ان کے دوست وہ ہیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے، اور فرمایا ہے: "تم ایسی کوئی قوم نہیں پاؤ گے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے دوستی رکھے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا قبیلے والے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور انہیں اپنی طرف سے روح القدس سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ یہی اللہ کا گروہ ہیں۔ خبردار! بے شک اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے"۔[1]


حوالہ جات

  1. ↑ سخنرانی استثنائی غدیر، ص201–212؛ واقعه قرآنی غدیر، ص99۔


مآخذ

  • سخنرانی استثنائی غدیر؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386ش۔
  • واقعه قرآنی غدیر: گزارش سفر یک‌ماهه پیامبر برای اعلان ولایت در سایه آیات قرآنی؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386ش۔