مندرجات کا رخ کریں

سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ اور غدیر

ویکی غدیر سے
سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ اور غدیر
سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ اور غدیر
آیت کی خصوصیات
آیت کا مواد
موضوعغدیر کے دشمنوں پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت
آیت کی ترتیل

سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ ایک ایسی آیت ہے جو خطبہ غدیر میں غدیر کے دشمنوں کی توصیف کے لیے آئی ہے اور انہیں خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔

سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ کے غدیر کے واقعے میں استعمال کا پس منظر یوں دکھایا گیا ہے: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے خطبہ غدیر میں اہل بیت علیہم السلام کے دوستوں اور دشمنوں کے بارے میں قرآن سے فرمایا: مَعاشِرَ النّاسِ، عَدُوُّنا مَنْ ذَمَّهُ اللَّه وَ لَعَنَهُ، وَ وَلِيُّنا كُلُّ مَنْ مَدَحَهُ اللَّه وَ احَبَّهُ؛ اے لوگو! ہمارا دشمن وہ ہے جسے اللہ نے مذمت کیا اور لعنت کی، اور ہمارا دوست وہ ہے جسے اللہ نے مدح کیا اور دوست رکھا۔[1]

جن باتوں کی طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے اشارہ کیا ان میں سے ایک کافروں پر لعنت کی آیت ہے جو سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۱ میں آئی ہے: إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَ ماتُوا وَ هُمْ کُفَّارٌ، أُولئِکَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللَّه وَ الْمَلائِکَةِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِینَ؛ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مر گئے، ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو گئے، وہ لوگ جنہوں نے الٰہی احکامات کو یکے بعد دیگرے پامال کیا اور وہ لوگ جنہوں نے بدعتوں کو سنتوں کی جگہ دے دی وہ اہل سقیفہ تھے۔ اہل سقیفہ ہی تھے جنہوں نے کفر کے ذریعے لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا، اور خود کو خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت کا مستحق بنایا۔[2]


پانویس

  1. ↑ اسرار غدیر، ص۱۵۳، بخش۷۔
  2. ↑ غدیر در قرآن، ج۲، ص۲۷۔


مآخذ

  • اسرار غدیر؛ محمدباقر انصاری، قم: نشر مولود کعبہ، ۱۴۲۰ھ۔
  • غدیر در قرآن، قرآن در غدیر؛ محمدباقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، ۱۳۸۷ش۔