مندرجات کا رخ کریں

سورہ محمد کی آیات نمبر 24 اور 25 اور غدیر

ویکی غدیر سے
سورہ محمد کی آیات نمبر 24 اور 25 اور غدیر
سورہ محمد کی آیات نمبر 24 اور 25 اور غدیر
آیت کی خصوصیات
سورہ کا نامسورہ محمد
آیت نمبر24 و 25
پارہ26
آیت کا مواد
مقام نزولمدینہ
موضوعبنی امیہ کا اصحاب صحیفہ کے ساتھ تعاون اور اس کی نوعیت

سورہ محمد کی آیات نمبر 24 اور 25 صحیفہ ملعونہ اول کے اصحاب کے بارے میں ہیں، جن میں بنی امیہ کے اصحاب صحیفہ کے ساتھ تعاون کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

سورہ محمد کی آیات 24 اور 25 کے نزول کا پس منظر یوں بیان کیا گیا ہے:[1] حجۃ الوداع کے سفر میں ذی الحجہ کی چودہ تاریخ کو پیچیدہ واقعات پیش آئے؛ جن میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب صحیفہ ملعونہ اول – جنہوں نے اہل بیت علیہم السلام کے خلاف ایک معاہدہ لکھا تھا اور اس پر کعبہ میں دستخط کیے تھے – خلافت غصب کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ ان کے خیال میں خلافت غصب کرنے میں سب سے بہتر تعاون بنی امیہ کر سکتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے ان کے سرداروں کو اپنی مجلس میں دعوت دی۔ اس مرحلے پر انہوں نے اپنے مطلوبہ مسائل میں ایک اقتصادی مسئلہ بھی شامل کر لیا اور وہ تھا اہل بیت علیہم السلام سے خمس کو روکنا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خمس ان کے اختیار میں ہو گا تو وہ اسے خلافت غصب کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

اس مجلس میں عثمان بن عفان اور معاویہ بن ابوسفیان بنی امیہ کے سرداروں کے طور پر شریک ہوئے اور چند دیگر افراد بھی موجود تھے جن میں عبدالرحمٰن بن عوف، عمرو بن عاص، سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ، ابوہریرہ اور ابوموسیٰ اشعری شامل تھے۔ بنی امیہ نے ان سے پوچھا: آپ نے خلافت کے لیے کس کو منتخب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر! بنی امیہ نے کہا: ہم خمس روکنے پر متفق ہیں، لیکن ابوبکر کی خلافت پر نہیں۔ انہوں نے بنی امیہ سے بس اتنا ہی قبول کیا اور ان کے ساتھ بھی ہم پیمان ہو گئے اور ایک بار پھر ابوعبیدہ جراح کو اپنا گواہ بنایا اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے گروہ کو مزید وسیع کیا۔ یہیں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے معاہدے کی خبر دی اور سورہ زخرف کی آیات 79 اور 80 نازل کیں۔

اس کے بعد سورہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آیات 24 اور 25 نازل ہوئیں جنہوں نے بنی امیہ کی طرف سے اصحاب صحیفہ کی آدھی تجویز کو قبول کرنے کی خبر دی: اِنَّ الَّذینَ ارْتَدّوا عَلی اَدْبارِهِمْ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدی الشَّیْطانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَ اَمْلی لَهُمْ. ذلِکَ بِاَنَّهُمْ قالُوا لِلَّذینَ کَرِهُوا ما نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطیعُکُمْ فی بَعْضِ الاَمْرِ وَ اللَّهُ یَعْلَمُ اِسْرارَهُمْ؛ بے شک وہ لوگ جو ہدایت واضح ہونے کے بعد اپنی پیٹھ پھیر گئے، شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوبصورت بنا دیا اور انہیں لمبی امیدیں دلائیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کرتے تھے: ہم بعض معاملات میں تمہاری اطاعت کریں گے، اور اللہ ان کے پوشیدہ رازوں کو جانتا ہے۔[2]

حوالہ جات

  1. ↑ واقعه قرآنی غدیر، ص54.
  2. ↑ بحارالانوار، ج28، ص122؛ بحارالانوار، ج30، ص163–164؛ بحارالانوار، ج36، ص157.