سورہ انعام کی آیت 103 اور غدیر

سورہ انعام کی آیت 103 ایک توحیدی آیت ہے جو انسانوں کے ضمیروں کے بارے میں اللہ کے ہمہ گیر علم کو ثابت کرتی ہے اور ذاتِ الٰہی کی گہرائی تک رسائی کی نفی کرتی ہے۔ یہ آیت خطبہ غدیر میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بطور دلیل پیش کی ہے۔

سورہ انعام کی آیت 103 اور غدیر
سورہ انعام کی آیت 103 اور غدیر
آیت کی خصوصیات
آیت کا مواد
موضوعخداوند کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، بلکہ وہ تمام دیکھنے والوں کو دیکھتا ہے۔
آیت کی ترتیل

سورہ انعام کی آیت 103 ان آیات میں سے ہے جو خطبہ غدیر کے متن میں آئی ہے۔ خطبہ غدیر میں سورہ انعام کی آیت 103 کے استعمال کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے: توحید کے مسائل میں سے ایک جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ غدیر کے پہلے حصے میں بیان کیا، وہ اللہ کی تقدیس تھی جو سورہ انعام کی آیت 103 کے ذکر کے ساتھ انجام پائی: لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ؛ آنکھیں اسے نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پاتا ہے، اور وہ لطیف و باخبر ہے۔

خطبہ غدیر کے ایک حصے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ انعام کی آیت 103 پر تکیہ کرتے ہوئے فرمایا: قَدْ فَهِمَ السَّرائِرَ وَ عَلِمَ الضَّمائِرَ، جو اللہ کے علم کی طرف اشارہ ہے؛ ایسا علم جس سے اللہ باطن اور امور کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے اور مطلق غلبہ اسی کا ہے اور اس کی تخلیق بغیر کسی سابقہ اور نمونے کے ہوئی ہے۔

پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ انعام کی آیت 103 کا ذکر کرتے ہوئے ذاتِ الٰہی کی گہرائی تک رسائی نہ ہونے کا مسئلہ اٹھایا، کہ جو کچھ اللہ نے اپنے بارے میں بیان کیا ہے اس کے علاوہ کسی کو اس کی معرفت کا کوئی راستہ نہیں: جَلَّ عَنْ اَنْ تُدْرِكَهُ الاَبْصارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الاَبْصارَ وَ هُوَ اللَّطيفُ الْخَبيرُ. لا يَلْحَقُ اَحَدٌ وَصْفَهُ مِنْ مُعايَنَةٍ، وَ لا يَجِدُ اَحَدٌ كَيْفَ هُوَ مِنْ سِرٍّ وَ عَلانِيَةٍ، اِلاّ بِما دَلَّ عَزَّ وَ جَلَّ عَلى نَفْسِهِ؛ وہ اس سے بلند ہے کہ آنکھیں اسے درک کریں، لیکن وہ آنکھوں کو درک کرتا ہے اور وہ لطف کرنے والا اور باخبر ہے۔ کوئی بھی دیکھنے سے اس کی صفت تک نہیں پہنچ سکتا اور کوئی بھی اس کی کیفیت کو راز اور علانیہ طور پر نہیں پا سکتا، مگر اسی سے جو اللہ عز و جل نے خود اپنے بارے میں رہنمائی کی ہے۔[1]

حوالہ جات

  1. ↑ سخنرانی استثنائی غدیر، ص137–146؛ واقعه قرآنی غدیر، ص80۔

مآخذ

  • سخنرانی استثنائی غدیر؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386ش۔
  • واقعه قرآنی غدیر: گزارش سفر یک‌ماهه پیامبر برای اعلان ولایت در سایه آیات قرآنی؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386ش۔