سورہ اعراف آیت نمبر 49 اور غدیر

سورہ اعراف آیت نمبر 49 ایک ایسی آیت ہے جسے غدیر کے واقعات میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے قیامت میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دوستداروں کی حالت بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔

سورہ اعراف کی آیت 49 اور غدیر
سورہ اعراف کی آیت 49 اور غدیر
آیت کی خصوصیات
سورہ کا نامسورہ اعراف
آیت نمبر49
پارہ8
آیت کا مواد
مقام نزولمکہ
موضوعقیامت میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دوستداروں کی حالت کی توصیف
آیت کی ترتیل

بعض محققین نے اس آیت کے استعمال کا پس منظر یوں بیان کیا ہے:[1] غدیر میں حارث بن نعمان فہری کے امامت اور ولایت امیرالمؤمنین علیہ السلام پر اعتراض اور اس پر آسمان سے پتھر نازل ہونے کے بعد[2] اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی طرف سے اس بارے میں کچھ باتوں کے بعد، حضرت نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: کیا تم نے اپنے کانوں سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: "خوش نصیب ہے وہ جو علی کو دوست رکھے اور ہلاک ہو وہ جو ان سے دشمنی کرے۔ گویا میں علی اور ان کے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو قیامت کے دن اونٹوں پر سوار جنت کے باغوں کی طرف لے جائے جا رہے ہوں گے، جبکہ ان کے چہرے جوان ہوں گے، ان کے سروں پر تاج ہوں گے اور وہ سرمہ لگائے ہوں گے"۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے سورہ اعراف کی آیت 49 کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لا خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَ لا اَنْتُمْ تَحْزَنُونَ؛ ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ حضرت نے مزید سورہ توبہ کی آیت 72 کی طرف اشارہ کیا۔[3]

حوالہ جات

  1. ↑ چهارده قرن با غدیر، ص25؛ واقعه قرآنی غدیر، ص153؛ اسرار غدیر، ص60.
  2. ↑ بحارالانوار، ج37، ص136؛ بحارالانوار، ج37، ص162–163؛ عوالم العلوم، ج2/15، ص56؛ عوالم العلوم، ج2/15، ص57–58؛ عوالم العلوم، ج2/15، ص129؛ الغدیر، ج1، ص460–463.
  3. ↑ جامع الاخبار، ص12؛ بحارالانوار، ج37، ص167؛ عوالم العلوم، ج2/15، ص144–145؛ الغدیر، ج1، ص193.

مآخذ

  • اسرار غدیر؛ محمدباقر انصاری، تہران: نشر تک، 1384ش.
  • بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار؛ محمدباقر بن محمدتقی مجلسی، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، 1403ق.
  • جامع الاخبار؛ محمد بن محمد شعیری، نجف: المطبعة الحیدریة، بی‌تا.
  • چهارده قرن با غدیر (اتمام حجت‌ها، بحث‌های علمی، مناظرات، میراث مکتوب، شعر و ادب، یادگارها و یادبودها)؛ محمدباقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1379ش.
  • عوالم العلوم و المعارف و الأحوال من الآیات و الأخبار و الأقوال؛ عبدالله بن نورالله بحرانی اصفهانی‏، تحقیق: محمدباقر موحد ابطحی اصفهانی‏، قم: مؤسسة الإمام المهدی علیه السلام، 1382ش.
  • الغدیر فی الکتاب و السنة و الأدب؛ عبدالحسین امینی، قم: مرکز الغدیر للدراسات الإسلامیة، 1416ق.
  • واقعه قرآنی غدیر: گزارش سفر یک‌ماهه پیامبر برای اعلان ولایت در سایه آیات قرآنی؛ محمدباقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386ش.