مندرجات کا رخ کریں

سانچہ:شرح خطبه غدیر

ویکی غدیر سے

اَلا اِنَّهُ وارِثُ کُلِّ عِلْمٍ وَ الْمُحیطُ بِکُلِّ فَهْمٍ خبردار! وہ تمام علوم کا وارث اور تمام فہم و ادراک پر احاطہ رکھنے والا ہے۔ اس کلام میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مہدی موعود علیہ السلام تمام بشری علوم پر احاطہ رکھتے ہیں اور کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ وہ حضرت عالم آفرینش کی تمام موجودات کا خلاصہ ہیں اور ان کا علم علم لدنی (یعنی حضوری) ہے، نہ کہ اکتسابی اور حصولی۔

علم حضوری کا مطلب یہ ہے کہ تمام عوالم ہستی کی حقیقتیں ان کے لیے روشن اور آشکار ہیں اور کوئی چیز ان سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے؛ کیونکہ اپنی جگہ پر یہ ثابت ہے کہ علم حضوری چونکہ حق تعالیٰ کے علم کی جنس سے ہے، برخلاف علم حصولی کے جو ہر لحاظ سے محدود اور متناہی ہے۔ اور اسی وجہ سے ان کے جد بزرگوار، امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی اور چونکہ مہدی موعود علیہ السلام کا مقدس وجود تمام انبیاء و اوصیاء کا برحق وارث ہے لہٰذا جو کمالات اور فضائل نفسانی ان میں تھے وہ ان کے وجود مبارک میں جمع ہونے چاہئیں تاکہ وراثت مکمل طور پر متحقق ہو سکے۔