سورہ انشقاق کی آیات نمبر 10 سے 12 اور غدیر
سورہ انشقاق کی آیات نمبر 10 سے 12 ان آیات میں سے ہیں جو خطبہ غدیر میں دشمنان غدیر اور ائمہ علیہم السلام کے انجام کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔
سورہ انشقاق کی آیات 10 تا 12 کی قرآنی حیثیت قیامت کے دن کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا: ایک گروہ وہ جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور ان کا حساب آسان ہوگا؛ دوسرا گروہ وہ جن کے اعمال نامے ان کے پیچھے سے دیے جائیں گے اور ان کی حسرت بھری چیخیں بلند ہوں گی اور وہ اپنے جسموں پر آگ کے شعلے محسوس کریں گے۔ خطبہ غدیر میں یہ تقسیم دشمنان غدیر اور ائمہ علیہم السلام پر لاگو کی گئی ہے: قیامت میں، جب دشمنان علی علیہ السلام کے اعمال نامے ان کے پیچھے سے دیے جائیں گے تو گویا ان کے سروں پر پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا اور ان کی چیخیں "ہائے میری بربادی: ویلی ویلی" بلند ہوں گی اور عذاب الٰہی کے فرشتے انہیں جہنم میں دھکیل دیں گے۔
دشمنان غدیر کے تعارف کے لیے آیات
سورہ انشقاق کی آیات 10 تا 12 کو بعض محققین نے دشمنان غدیر اور ان کے انجام کے تعارف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان محققین نے اپنے نظریے کے لیے یہ تجزیہ پیش کیا ہے: علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کے امتحان کا ذریعہ قرار دیا ہے: لَوْ لا انْتَ يا عَلِىُّ لَمْ يُعْرَفِ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدى۔[1] پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر کے مراسم کا ایک حصہ ائمہ علیہم السلام کے دشمنوں کے تعارف اور ان کے مستقبل کی تصویر کشی کے لیے مختص کیا۔ اس مقصد کے لیے چند آیات سے اقتباس اور دیگر آیات کا تضمین، مجموعی طور پر 15 آیات کو اس حصے کا عنوان قرار دیا گیا ہے؛ ان آیات میں سے سورہ انشقاق کی آیات 10 تا 12 ہیں: وَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ﴿10﴾فَسَوْفَ یَدْعُو ثُبُورًا ﴿۱۱﴾ وَیَصْلَیٰ سَعِیرًا ﴿12)؛
اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا (10) تو وہ عنقریب حسرت بھری چیخ کے ساتھ اپنی ہلاکت اور تباہی کو پکارے گا۔ (۱۱) اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
خطبہ غدیر میں آیات کی حیثیت
خطبہ غدیر میں سورہ انشقاق کی آیات 10 تا 12 کی حیثیت یوں بیان کی گئی ہے: خطبہ غدیر اپنے وسط سے گزر چکا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علی علیہ السلام کے دوستوں اور دشمنوں کے مستقبل کو بیان کر رہے ہیں۔ دوستوں کے بارے میں پانچ حصوں کے بعد، دشمنوں کی باری آتی ہے اور پہلے حصے میں سورہ انشقاق کی قرآنی آیت سے اقتباس کرتے ہوئے علی علیہ السلام سے دشمنی کے نتائج میں سے ایک کو بیان کرتے ہیں۔ اس عبارت میں، لفظ "یَصْلی" جو آیت میں واحد ہے، حضرت کے کلام میں "اعْداء" کے لفظ سے مطابقت کے لیے جمع (یَصْلَوْنَ) کے صیغے میں آیا ہے۔الا انَّ اعْداءَهُمُ الَّذينَ يَصْلَوْنَ سَعيراً۔
جان لو کہ ائمہ کے دشمن وہ لوگ ہیں جو اپنے جسموں پر آگ کے شعلے محسوس کریں گے۔[2]
آیات کی قرآنی حیثیت
ان آیات کی قرآنی حیثیت سورہ انشقاق کے اوائل میں قیامت کے دن کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا:
- پہلا گروہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور ان کا حساب آسان ہوگا، وہ خوشی خوشی اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔
- دوسرا گروہ ان کے مقابلے میں ہے اور وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے پیچھے سے دیے جائیں گے اور ان کی حسرت بھری چیخیں بلند ہوں گی اور وہ اپنے جسموں پر آگ کے شعلے محسوس کریں گے۔
آیات کا اعتقادی تجزیہ
خطبہ غدیر میں سورہ انشقاق کی آیات 10 تا 12 کے استعمال کی وجہ یوں تجزیہ کی گئی ہے: آیات اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام کے امتزاج سے جو تاثر ابھرتا ہے وہ اماموں علیہم السلام کے دشمنوں کا ان لوگوں سے موازنہ ہے جن کے اعمال نامے ان کے پیچھے سے دیے جائیں گے۔ قیامت کے دن، یہ اعمال نامے ہی ہیں جو حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔ ان لمحات میں جب سب انتظار میں ہوں گے، سب اپنے دائیں ہاتھ کو دیکھیں گے کہ شاید وہاں سے اپنا اعمال نامہ وصول کریں۔ اس وقت جب دشمنان علی علیہ السلام کے اعمال نامے ان کے پیچھے سے دیے جائیں گے تو گویا ان کے سروں پر پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا اور ان کی چیخیں "ہائے میری بربادی: ویلی ویلی" بلند ہوں گی اور عذاب الٰہی کے فرشتے انہیں جہنم میں دھکیل دیں گے۔
حوالہ جات
منابع
- الإقبال بالأعمال الحسنة فیما یعمل مرة فی السنة؛ سید علی بن موسی بن طاووس، تحقیق: جواد قیومی اصفهانی، قم: مکتب الإعلام الإسلامی، 1418ق۔
- الیقین باختصاص مولانا علی علیهالسلام بامرة المؤمنین؛ سید علی بن موسی بن طاووس، تحقیق: محمدباقر انصاری، قم: مؤسسه دار الکتاب الجزائری، 1413ق۔
