آل عمران کی آیت 144 اور غدیر
سورہ آل عمران کی آیت 144 ایک ایسی آیت ہے جسے خطبہ غدیر میں مسلمانوں کو رضائے الٰہی کو مدنظر رکھنے کی تاکید کے لیے استعمال کیا گیا؛ کیونکہ اگر زمین کے تمام لوگ کافر ہو جائیں، تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
| مشخصات آیت | |
|---|---|
| مواد آیت | |
| موضوع | رضائے الٰہی کو مدنظر رکھنے کی تاکید |
| ترتیل آیت | |
بعض محققین نے غدیر کے واقعے میں سورہ آل عمران کی آیت 144 کے استعمال کا پس منظر یوں بیان کیا ہے: خطبہ غدیر کا آخری حصہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے کے لیے مخصوص تھا، جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ نے ایک جملے میں امام کے لیے سب سے بڑی فضیلت کو قرآن سے جوڑ کر بیان کیا۔ ایک طرف تو قرآن میں علی علیہ السلام کے فضائل کے نزول کا ذکر کیا اور دوسری طرف آپؐ کے مناقب کے سمندر کو اتنا وسیع قرار دیا کہ ایک مجلس میں ذکر کرنا ممکن نہ ہو۔
پھر علی علیہ السلام کے فضائل کی وسعت کے پیش نظر، ہمیں اصحاب معرفت سے ان فضائل کو قبول کرنے کا حکم دیا اور پھر سورہ احزاب کی آیت 71 اور سورہ توبہ کی آیات 20 اور 21 کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت نے خطبہ غدیر کے گیارہویں اور آخری حصے میں، قرآن کی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں کو متنبہ کیا کہ وہ رضائے الٰہی کو مدنظر رکھیں، کیونکہ اگر زمین کے تمام لوگ کافر ہو جائیں، تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حضرت نے اس بارے میں دو آیات کی طرف اشارہ کیا: سورہ ابراہیم کی آیت 8 اور سورہ آل عمران کی آیت 144 کا ایک حصہ:
وَ مَنْ یَنْقَلِبْ عَلی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَضُرَّ اللَّهَ شَیْئاً
۔
مَعاشِرَ النّاسِ، قُولُوا ما يَرْضَى اللَّهُ بِهِ عَنْكُمْ مِنَ الْقَوْلِ، فَإِنْ تَكْفُرُوا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِى الاَرْضِ جَميعاً فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَیْئاً۔[1]
حواشی
- ↑ سخنرانی استثنائی غدیر، ص۲۳۳–۲۴۲؛ واقعه قرآنی غدیر، ص۱۰۹.
مآخذ
- سخنرانی استثنائی غدیر؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386 ہجری شمسی۔
- واقعه قرآنی غدیر: گزارش سفر یکماهه پیامبر برای اعلان ولایت در سایه آیات قرآنی؛ محمد باقر انصاری، قم: انتشارات دلیل ما، 1386 ہجری شمسی۔
